Font by Mehr Nastaliq Web

بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے

جمیل قادری

بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے

    جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

    رنج و الم میں مبتلا وہ ہے جو تجھ سے پھر گیا

    بے فکر وہ غم سے رہاجس دل میں تیری یاد ہے

    اے بندگانِ محیِ دیں دل سے ذرا فریاد ہو

    بغداد کا فریاد رس تو بر سرِ امداد ہے

    محبوبِ سبحانی ہو تم مقبولِ ربانی ہو تم

    بندہ تمہارا جو ہوا وہ نار سے آزاد ہے

    ہوں نام لیوا آپ کا عاصی سہی مجرم سہی

    مجھ پُر خطا کے واسطے سرکار کیا ارشاد ہے

    بغداد کی گلیوں میں ہو آقا مرا لاشہ پڑا

    ٹھوکر لگا کر تم کہو یہ بندۂ آزاد ہے

    کیوں پوچھتے ہو قبر میں مجھ سے فرشتو دمبدم

    لو دل کے اندر دیکھ لو غوث الوریٰ کی یاد ہے

    جب روبرو قہار کے دفتر کھلیں اعمال کے

    کہنا خدائے پاک سے یہ بندۂ آزاد ہے

    مشکل پڑی جو سامنے آئی ندا بغداد سے

    میں ہوں حمایت پر تری بندے تو کیوں ناشاد ہے

    اَفکار میں ہوں مبتلا کوئی نہیں تیرے سوا

    یا عبدِ قادر محیِ دیں فریاد ہے فریاد ہے

    اٹھ بیٹھ گنبد سے ذرا چمکا دے بخت اسلام کا

    یا عبدِ قادر محیِ دیں فریاد ہے فریاد ہے

    تاریک شب چوروں کا بن ساتھی نہ کوئی راہبر

    بغداد کے روشن قمر فریاد ہے فریاد ہے

    قسمت ہی کھل جائے مری گر اے جمیلؔ قادری

    آئے خبر بغداد سے عرضی پہ تیری صاد ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے