تضمینی کلام : پیوں تو پیوں میں سبوئے محمد
دلچسپ معلومات
تضمین بر نعت داغؔ دہلوی۔
پیوں تو پیوں میں سبوئے محمد
جو دیکھوں تو دیکھوں میں روئے محمد
سنوں تو سنوں گفتگوئے محمد
خدا دے تو دے آرزوئے محمد
کریں چشم و دل جستجوئے محمد
مری زندگی کے محمد ہیں رہبر
ہیں دنیائے دل کے وہ مہرِ منور
ہیں اقلیمِ ہستی کے وہ میری قیصر
کھلے گی مری آنکھ جب روز محشر
کھنچے گی مری روح سوئے محمد
نظر آئے ہر سو بہاروں کا منظر
ہر اک شے کو جو بن نیا ہو میسر
ہو شاداب طوبیٰ کی ہر شاخ یکسر
خوشی سے ابل جائیں تسنیم و کوثر
جو مل جائے آب وضوئے محمد
کہوں کیوں نہ ان کو سراپا وفا میں
کہوں کیوں نہ ان کو جہاں کی ضیا میں
کہوں کیوں نہ ان کو حبیبِ خدا میں
کہوں کیوں نہ ہر بار صلِّ علیٰ میں
تصور میں پھرتا ہے روئے محمد
نہ حوروں سے نسبت نہ جنت سے مطلب
محمد ہی میرے ہیں ایمان و مذہب
تمنا ہے میری کروں سیرِ یثرب
بنیں دستِ مژگاں مرے پاؤں یارب
کروں طے ان آنکھوں سے کوئے محمد
وہ کرتا تھا روحوں پہ جو حکمرانی
وہ دلدوز تھی جس کی معجز بیانی
شریعت کی کرتا تھا جو پاسبانی
بھریں خضر بھی سامنے جس کے پانی
زہے عزت و آبروئے محمد
رہے مجھ پہ سایہ ہمیشہ نبی کا
مزہ زندگی کا نہ ہو میری پھیکا
نہ جوہرؔ ہو محتاج یارب کسی کا
الٰہی نہ ہو داغؔ کا بال بیکا
رگِ جاں بنے تارِ موئے محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.