طوطیٔ ہند کے ترانوں سے گونجتی تھی فضائے گنگ و جمن
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
طوطیٔ ہند کے ترانوں سے گونجتی تھی فضائے گنگ و جمن
ہند و فارسی کے سنگم پر
اس نے کیا کیا دھنیں تراشی تھیں
قول و قلبانہ راگنی اور گیت
اے نئے رنگ میں سموئے تھے
ساز سنگیت میں سنجوئے تھے
بین کو اس نے مختصر کر کے
اک رنگیں ستار چھیڑا تھا
ہند کے دل کا تار چھیڑا تھا
سات صدیوں کے بعد بھی ہر سو، نغمگی ہے ہوا کے جھونکوں میں
طوطیٔ ہند کے ترانوں کی!
موجدِ ریختہ کا کیا کہنا
اس کا اندازِ شعر البیلا
طبعِ جدت طراز نے اس کی شاعری میں بھی اختراعیں کیں
کہہ مکرنی، ڈھکو سلے، انِمل،
کتنے اصناف کو سنوار دیا
جدت و طرفگی کو عام کیا
میرِ مجلس، امیرِ موسیقی!
خسروِ ملکِ شاعری بھی تھا
جانِ محبوبِ اولیا بھی تھا
طوطیٔ ہند کا جواب نہیں
یہ حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 54)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.