آج کیا ہے جو سجاوٹ ہے سر چرغِ بریں
آج کیا ہے جو سجاوٹ ہے سر چرغِ بریں
چاندنی رات بھی دلکش ہے، ستارے بھی حسیں
نور ہی نور ہے ظلمت کا کہیں نام نہیں
قابلِ دید ہے گلزارِ جناں کی تزئیں
حکم خالق ہے فرشتے سبھی ہشیار رہیں
میرے محبوب کی تعظیم کو تیار رہیں
یہ ہے وہ رات کہ جس رات کو جبریلِ امیں
لے کے پیغام خدا آئے محمد کے قریں
اور اس طرح عرض کی اے خاتم عرفاں کے نگیں
ہے طلب آپ کی دنیا سے سرِ عرشِ بریں
اور راتوں سے ہے عظمت میں سوا آج کی رات
ہوگی مشہور دو عالم میں یہ معراج کی رات
ہفت گردوں کو فرشتوں نے سجا رکھا ہے
ذوق دیدار نگاہوں میں چھپا رکھا ہے
راستہ آپ کے جانے کا بنا رکھا ہے
حوصلہ چشمِ تمنا کا بڑھا رکھا ہے
صدقہ ہو حکم ہے یہ بادِ بہاری کے لیے
ایک براق ہے حضرت کی سواری کے لیے
مرے ہمراہ سوئے چرخ سدھاریں حضرت
خود کو چلنے کے لیے جلد سنواریں حضرت
لوٹ کر حسنِ حقیقی کی بہاریں حضرت
ناؤ ڈوبی ہوئی امت کی ابھاریں حضرت
عاصیوں پر بھی عنایت کی نظر ہو جائے
ظلمتِ شام سپیدۂ سحر ہو جائے
سنتے ہی حکمِ خدا ہو گئے تیار نبی
کھل اٹھی فرطِ مسرت سے تمنا کی کلی
باغِ عالم سے سوئے چرخ سواری جو بڑھی
پیشوائی کے لیے حسن کی بجلی چمکی
نظرِ شوق چلی ساتھ مگر جا نہ سکی
یوں روانہ ہوئے حضرت کہ صبا پا نہ سکی
نور ہی نور سرِ چرخ نظر آتا ہے
خود خدا جس کا ہے طالب وہ بشر آتا ہے
بحر عرفانِ محبت کا گہر آتا ہے
آج اللہ کا مہمان ادھر آتا ہے
سب ہیں بے چین پیمبر کی زیارت کے لیے
جاتے ہیں عرش پہ امت کی شفاعت کے لیے
خلوتِ طالب و مطلوب کا نہ پوچھو احوال
خاک ہو جائیں اگر آئیں یہاں وہم و خیال
ہو تصور کا گزر یہ بھی ہے اک امر محال
اس طرف خوف ادھر دوست کے لہجے میں سوال
یہ ہے وہ راز کہ جو ذہن میں آنے کا نہیں
جز نبی کوئی جوؔاں عرش پہ جانے کا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.