اے نقیبِ قرآنی اے رسولِ یزدانی
اے نقیبِ قرآنی اے رسولِ یزدانی
تم ہو زیست کے رہبر تم حیات کے بانی
چہرۂ مبارک کا جس نے نور دیکھا ہے
اس نے خلد دیکھی ہے اس نے طور دیکھا ہے
تم زمیں پہ کیا آئے بادِ نو بہار آئی
جامِ لالہ فام آیا بوئے مشک بار آئی
نام میں بھی نکہت ہے یاد میں بھی خوشبو ہے
کیا جمالِ عارض ہے کیا بہارِ گیسو ہے
تم حرا کے پہلو میں تم منیٰ کی وادی میں
تم ہو جذبۂ دل میں قوتِ ارادی میں
تم نے ریگزاروں میں زندگی بکھیری ہے
اک چراغ ہم کو بھی غم کی رات اندھیری ہے
تم جہاں سے اٹھے تھے، وہ بنائے ہستی ہے
تم جہاں ہو خوابیدہ، زندگی برستی ہے
تم کو یاد کرتا ہے دیدۂ بلال اب تک
راستہ دکھاتا ہے عشقِ بے مثال اب تک
لب پہ نام آتا ہے روح مسکراتی ہے
زندگی بہاروں میں ڈوب ڈوب جاتی ہے
اے صبا مدینہ کو جارہی ہے جاں لے جا
کوچہؑ محمد تک روح تشنگاں لے جا
زخم یاد کرتے ہیں، غم سلام کہتا ہے
اے نبی میں آپہنچا، تشنہ کام کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.