گونجتے ہیں تیری گلیوں میں ترانے شوق کے
گونجتے ہیں تیری گلیوں میں ترانے شوق کے
اے محمد کے چمن اے آستانے شوق کے
باب جبرئیل و نسا اس جا ادھر باب المجید
سب نظر کے آستانے سب ٹھکانے شوق کے
کیا بھلی تھی نکلتی لہجے میں تکبیر بلال
کون اب آئے گا یوں جادو جگانے شوق کے
ہے جو لمس پائے احمد سے مقدس یہ زمیں
اس لیے آتے ہیں سب آنسو بہانے شوق کے
ارضِ مکہ، جائے ابراہیم، دربارِ حبیب
ہیں جبینوں کے لیے سب آستانے شوق کے
صبح دم وہ مسجدِ طوبیٰ میں رقت کا سماں
کیسے بھولیں گے مجھے نصرتؔ زمانے شوق کے
اپنے اشکوں سے وضو کر کے ادا کیجیے نماز
بے گدازِ دل خدا غم کیسے جانے شوق کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.