اترو در حبیب پر گوہر سمیٹ لو
اترو در حبیب پر گوہر سمیٹ لو
اے طائران اوج فلک پر سمیٹ لو
ہیں سرفراز بوسۂ نعلین پاک سے
اس راستے کے تھوڑے سے کنکر سمیٹ لو
کحل البصر ہے سرمہ ہے اکسیر چشم ہے
کچھ گرد آستان پیمبر سمیٹ لو
اٹھو گناہ گارو کہ دریائے مغفرت
موتی اگل رہا ہے تم آ کر سمیٹ لو
فرد عمل مرقعِ جرم و خطا ہے کیفؔ
اور موت کہہ رہی ہے کہ دفتر سمیٹ لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.