سرِ اوراقِ زیبا نام نامی ہے محمد کا
سرِ اوراقِ زیبا نام نامی ہے محمد کا
کہ جو شافع بروز حشر ہوگا نیک اور بد کا
لکھا نامِ خدا کے بعد نام اس شاہِ امجد کا
رقم پیدا کیا کیا طرفہ بسم اللہ کے مد کا
سر دیواں لکھا ہے میں نے مطلع نعت احمد کا
فروغ مہرِ انور جلوہ ہے نورِ محمد کا
ضیائے ماہ روشن پرتوا ہے آپ کے خد کا
وہ اک آئینہ ہے اللہ کے انوار بے حد کا
طلوعِ روشنی جیسے نشاں ہو شہ کی آمد کا
ظہورِ حق کی حجت ہے جہاں میں نور احمد کا
زمیں تھی اور نہ بالائے زمیں آدم کا نقشہ تھا
فلک تھا اور نہ بالائے فلک عرشِ معلیٰ تھا
سریرِ لا مکاں پر نورِ احمد جلوہ فرما تھا
دبستانِ ازل میں وہ معلم عقل کل کا تھا
نہ تھا نام و نشاں جن روزوں اس لوح زبرجد کا
زمیں پر بطنِ مادر سے جو اس نے جلوہ فرمایا
گرے لات و ہبل کعبہ میں اوندھے رعب یہ چھایا
پڑی ہیبت جہاں میں لشکرِ کفار تھرایا
عجم میں زلزلہ نوشیرواں کے قصر میں آیا
عرب میں شور اٹھا جس وقت اس کی آمد آمد کا
زمیں پر زیب و زینت چتر اور دیہیم کو اس سے
فلک پر آبرو ہے کوثر و تسنیم کو اس سے
تفاخر مرسلانِ واجب التعظیم کو اس سے
شرف حاصل ہوا آدم اور ابراہیم کو اس سے
نہ تھا فخرِ دو عالم نہ تھا اپنے اب و جد کا
وہ جبریل امیں جو حامل آیاتِ قرآں تھا
وہ عقل کل کہ حاصل جس کو قربِ خاص یزداں تھا
وہ ہر دم خود بدولت کی رضا مندی کا خوہاں تھا
شب و روز ان کے صاحبزادوں کا گہوارہ جنباں تھا
عجب ڈھب یاد تھا روح الامیں کو بھی خوشامد کا
یہاں تشریف لا کر آپ نے شائع کیا دیں کو
وہاں سایہ نے رہ کر خوش رکھا دلہائے غمگیں کو
عجب انصاف تھا مد نظر رکھا اس آئیں کو
وہ اس عالم میں رونق بخش تھا حوروں کی تسکیں کو
گیا جنت میں طوبے بن کے سایہ اس سہی قد کا
وہ اک لمحہ میں جاکر نہ فلک کی سیر کر آیا
کھلا یہ بھی نہ لوگوں پر کدھر جا کر کدھر آیا
خدا جانے گیا کس طور سے کس طرح پر آیا
شب معراج چڑھ کر عرش پر دم میں اتر آیا
بیاں اس قلمزم معنی کے کیا ہو جذر اور مد کا
مدینہ کو شرف ہے گوہرِ نایاب سے جس کے
منور ہے زمانہ روئے عالم تاب سے جس کے
ہوا ہے جس چشمہ فیضاں سے جاری باب سے جس کے
رواں تسنیم و کوثر ایک قطرہ آب سے جس کے
کروں کیا وصف اس در یتیم بحر سرمد کا
خدا پر جس کو تکیہ ہے بھلا کیا ہو قلق اس کو
خدا نے دے دیا انا فتحنا کا سبق اس کو
اسی سے ہوگئے آساں مضامینِ ادق اس کو
کشادہ عقدہ باطن میں کافی نام حق اس کو
کھلا کرتا ہے بن کنجی ہمیشہ قفل ابجد کا
جوارِ رحمت حق میں جو اس نے جلوہ فرمایا
حیات جاوداں حاصل ہوئی یہ مرتبہ پایا
اسے بھیجا تھا جیسا حق نے پھر ویسا ہی بلوایا
وفاتِ ظاہری سے جوہرِ جاں میں نہ فرق آیا
وہ جسمِ پاک کو محسود تھا روح مجرد کا
وہ جسم پاک جو ہم شکل تھا آئینہ جاں کے
رکھا س کو زمیں نے اپنے دل میں مثل ایماں کے
وہ نور کبریا عظمت میں تھا مانند قرآں کے
نہ کم قدر اس کے شیرازہ بکھر جانے سےا رکاں کے
نہ افزوں رتبہ قرآنِ مجزا سے مجلد کا
گذر بے دین و مرتد کا حریم قدس میں کیا ہو
در دربار پر کیوں کر کسی نا اہل کی جا ہو
بدل کر شکل بھی جائے تو واں کب دخل اس کا ہو
گر افعی بن کے جا نکلے ادھر ابلیس اندھا ہو
ملا ہے قصر اخضر روح کو اس کی زمرد کا
خدا پر بھی فدا اور امت عاصی پہ بھی مائل
یہاں کی یاد بھی دل میں وہاں کا ذوق بھی حاصل
حبیبِ حق رؤفِ خلقِ آں وصفوں میں تھے کامل
ادھر اللہ سے واصل ادھر مخلوق کے شامل
خواص اس برزخِ کبریٰ میں تھا حرف مشدد کا
بڑھایا اس کی خاطر حق نے اس عالم کی رونق کو
زمیں پر بے ستوں قائم کیا چرخ معلق کو
بغیر اس کے بہت دشوار تھا پہچاننا حق کو
گذر وحدت سے کثرت میں نہ ہوتا ذاتِ مطلق کو
نہ بنتا صفر گر نقش احد پر میم احمد کا
تر و تازہ ترے فیضِ قدم سے گلشنِ امکاں
تمامی کام مشکل نام نامی سے ترے آساں
ترا ہر امتی روزِ جزا ہوگا مسرت میں
بٹیں گے جس گھڑی عشرت کے ساماں نرم جنت میں
کھلے گا حالِ خلقت کو ترے انعام بے حد کا
خطائیں بخشوا کر حق تعالیٰ سے قیامت کو
چلیں گے ساتھ لے کر سوئے جنت اپنی امت کو
تو ہوگا جوش پر اک جوش اس دم بحر رحمت کو
لب گوہر فشاں وا ہوں گے جب عرضِ شفاعت کو
تما شاگاہِ محشر میں تکیں گے نیک منہ بد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.