دنیا پہ جب وہ ساعتِ اکرام آگئی
دنیا پہ جب وہ ساعتِ اکرام آگئی
اپنی جگہ پہ گردشِ ایام آگئی
دن ڈھلتے ڈھلتے دھوپ لبِ بام آگئی
تفیسر والضحیٰ کے لیے شام آگئی
واللیل تھی شروع کہ خورشید چھپ گیا
چھپتا نہ کیوں یہ مہرِ رسالت کا وقت تھا
اس جھٹ پٹے میں آنکھ ستاروں کی کھل گئی
آئی جو چاندنی تو سیاہی بھی گھل گئی
دنیا تمام اوس کے چھینٹوں سے دھل گئی
کل کائنات رت جگا کرنے پہ تل گئی
قدرت نے احترام یہ اس رات کا کیا
سرمہ بنا کے دیدہ و دل میں لگا لیا
پھیلی یہ بات انجمن کائنات میں
رحمت کا اضطراب ہے اللہ کی ذات میں
نکلے گا آفتاب وہ تاریک رات میں
اک نور پھیل جائے گا راہِ نجات میں
سن کر یہ بات وقت گریزاں ٹھہر گیا
باگیں کھچیں تو ابلقِ دوراں ٹھہر گیا
عرش تھے نورِ ذات کو تاباں کئے ہوئے
قدسی تھے شمع دل کو فروزاں کئے ہوئے
فرش تھے دل کے داغ نمایاں کئے ہوئے
ساری خلا ملا تھی چراغاں کئے ہوئے
لطفِ خلش دبا کے دلِ بےقرار میں
عالم سنور کے بیٹھ گئے انتظار میں
جب آمدِ حضور کے آثار ہو گئے
نزدیک و دور پرچۂ و اخبار ہو گئے
جن و ملک سلام کو تیار ہو گئے
حاضر سبھی ثوابت و سیار ہو گئے
دستِ خدا نے کھول کے باب انقلاب کا
سورج کیا طلوع رسالت مآب کا
کیا کیا نہ معجزے ہوئے وقتِ ورود میں
مصروف تھے ملائکہ ذکر و درود میں
مشغول تھے بشر بھی قیام و قعود میں
یعنی کہ ہست و بود تھے سجدہ سجود میں
کہتے تھے سب کہ صلِ علیٰ کیا ظہور ہے
تنویر ہے کہ جل علیٰ شمع طور ہے
ظاہر جب آنحضور کے انوار ہو گئے
آتش کدے تھے جتنے وہ فی النار ہو گئے
کسریٰ محل میں ڈھیر وہ مینار ہو گئے
لات و ہبل بھی ساجدِ سرکار ہو گئے
نکلا جب آفتاب وجودِ حضور کا
گل ہوگیا چراغ بتوں کے غرور کا
محبوبِ حق کی خوبی تقدیر کی قسم
تخلیق کائنات کی تدبیر کی قسم
وعدۂ شفاعتِ تقصیر کی قسم
یا حضرتِ رسول کی تنویر کی قسم
جن کو نصیب ہو گیا دیدار آپ کا
پروانہ بن گیا وہ سرکار آپ کا
اعمالِ اصفیا کا خلاصہ رسول تھے
اوصافِ اؤلیا کا خلاصہ رسول تھے
افضالِ انبیا کا خلاصہ رسول تھے
تخلیق کبریا کا خلاصہ رسول تھے
اب اور وصفِ گوہر مقصود کیوں کروں
اس حسنِ لامحدود کو محدود کیوں کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.