Font by Mehr Nastaliq Web

لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں

کمال الدین

لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں

کمال الدین

MORE BYکمال الدین

    لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں

    یہ ہوا یہ فضا کہہ رہی ہے آقا تشریف لائے ہوئے ہیں

    جن کی خاطر یہ عالم بنایا اپنے گھر جن کو رب نے بلایا

    اے حلیمہ یہ تیرا مقدر وہ ترے گھر میں آئے ہوئے ہیں

    کیسے کہہ دوں وہ حاضر نہیں ہیں کیسے مانوں یہ ممکن نہیں ہے

    اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہو وہ تصور میں آئے ہوئے ہیں

    آج پوری ہوئی دل کی حسرت کیوں نہ جی بھر کے کر لوں زیارت

    قبر میں اے فرشتو نہ آنا میرے سرکار آئے ہوئے ہیں

    نام نبیوں کے بے شک بڑے ہیں عظمتوں کے نگینے جڑے ہیں

    مقتدی بن کے پیھچے کھڑے ہیں وہ جو پہلے سے آئے ہوئے ہیں

    میں مدینے کی گلیوں کے قرباں جن سے گزرے ہیں شاہِ مدینہ

    اس طرح سے مہکتے ہیں رستے عطر جیسے لگائے ہوئے ہیں

    چھوڑ کر در بدر کا ٹھکانا اے کمالؔ ان کے در پہ ہے جانا

    ہم سے لاکھوں بروں کو جو اپنا خاص مہماں بنائے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے