نور اس ذات مقدس کا ہے پہلا بادل
نور اس ذات مقدس کا ہے پہلا بادل
بن گیے ارض و سما جب کہ وہ پھیلا بادل
ساری مخلوق ہے اس ابر کرم سے سیراب
دونوں عالم ہوئے پیدا جو وہ برسا بادل
پہلے ظاہر ہوا، اس مہر جہاں تاب کا نور
جب ہٹا پردۂ ظلمات عدم کا بادل
ذات احمد میں ہے یوں نور احد کا پنہاں
جس طرح برق درخشاں کا ہے پردا بادل
وہ تیرے روضۂ اقدس کی ہے رفعت جس کو
کر لیا کرتا ہے بس دور سے سجدہ بادل
شب اسریٰ جو اڑا تھا ترے توسن کا غبار
بن گیا چرخ پہ وہ کاہکشاں کا بادل
آستاں پر ترے اس کے جو رسائی نہ ہوئی
کیوں نہ اس غم سے کرے شیون و نالا بادل
آپ کا بحر عطا آئے جو طغیانی پر
ابھی بہتا پھرے مثلِ کف دریا بادل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.