اشک بھی بن گئے ہیں طالب دیدار کے پھول
اشک بھی بن گئے ہیں طالب دیدار کے پھول
اللہ اللہ چمنِ احمد مختار کے پھول
لب پہ ہو صلِ علیٰ دل میں عقیدت کی لگن
یوں در پاک پہ جا پہنچوں لیے پیار کے پھول
داغ بن کے کبھی چمکے کبھی کھِل کر مہکے
رنگ یوں لائے محبت میں دلِ زار کے پھول
کاش مل جائے کسی روز انہیں رنگِ قبول
ہیں ندامت کے یہ آنسو ہی گنہگار کے پھول
چشمِ رحمت سے حضوری کی سعادت بھی ملے
روز و شب چومتا ہوں آپ کی گفتار کے پھول
تیرے الفاظ سے ظاہر ہے کنولؔ جذبۂ دل
حشر تک کیوں نہ مہکتے رہیں اشعار کے پھول
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.