Font by Mehr Nastaliq Web

اشک بھی بن گئے ہیں طالب دیدار کے پھول

کنول سیالکوٹی

اشک بھی بن گئے ہیں طالب دیدار کے پھول

کنول سیالکوٹی

MORE BYکنول سیالکوٹی

    اشک بھی بن گئے ہیں طالب دیدار کے پھول

    اللہ اللہ چمنِ احمد مختار کے پھول

    لب پہ ہو صلِ علیٰ دل میں عقیدت کی لگن

    یوں در پاک پہ جا پہنچوں لیے پیار کے پھول

    داغ بن کے کبھی چمکے کبھی کھِل کر مہکے

    رنگ یوں لائے محبت میں دلِ زار کے پھول

    کاش مل جائے کسی روز انہیں رنگِ قبول

    ہیں ندامت کے یہ آنسو ہی گنہگار کے پھول

    چشمِ رحمت سے حضوری کی سعادت بھی ملے

    روز و شب چومتا ہوں آپ کی گفتار کے پھول

    تیرے الفاظ سے ظاہر ہے کنولؔ جذبۂ دل

    حشر تک کیوں نہ مہکتے رہیں اشعار کے پھول

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے