سید المرسلیں، رحمت عالمیں
سید المرسلیں، رحمت عالمیں
دین و دنیا میں راحت دلوں میں مکیں
راحت العاشقیں، زبدۃ العارفیں
ہیں ازل سے ابد تک خدا کے قریں
تاجدارِ عرب شہریارِ عجم
جان میں سانس میں روح میں دلنشیں
آپ کہف الوریٰ، آپ شمس الضحیٰ
ہیں اندھیروں میں آپ اک چراغِ مبیں
یا شفیع الامم، شانِ جود و کرم
روز محشر ہے بس آپ ہی کا یقیں
آپ مقصود و موجود و مطلوب ہیں
آپ اللہ کے ہیں نہایت قریں
آپ معراج میں عرش پر میہماں
یہ بزرگی کسی نے بھی پائی نہیں
آپ ہی بس غریبوں کے غم خوار ہیں
آپ محتاج و مسکیں کے سچے معیں
آپ سردارِ حرمین اور قبلتین
آپ بعد از خدا ہیں بزرگ آفریں
آپ کے جسمِ اطہر کا سایہ نہ تھا
جسم پر بیٹھتے مکھی، مچھر نہیں
جبرئیل امیں آپ کے ہمسفر
ہے سواری براق سفید و حسیں
دل اجالوں سے لبریز کوکبؔ کا ہے
جب سے آقا کی الفت ہوئی جاگزیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.