بخشواتا مجھے کون آپ کی رحمت کے سوا
بخشواتا مجھے کون آپ کی رحمت کے سوا
میں کہ کچھ تھا ہی نہیں اشکِ ندامت کے سوا
حسنِ آغازِ مسرت پہ جو مرتے ہیں انہیں
کچھ مِلا بھی غمِ انجامِ مسرت کے سوا
آپ کے شوقِ عبادت میں جنابِ زاہد
اور سب کچھ ہے بس اخلاص کی دولت کے سوا
ہاں ذرا دیکھ کے اے جرأتِ اظہارِ خیال
قابلِ عفو ہے ہر جرم صداقت کے سوا
اور موضوعِ سخن بھی تو ہیں اے فنکارو
زلف و رخسار کی پامال حکایت کے سوا
دل ناشاد کہ ہے آہِ مجسم کوثرؔ
کر بھی کیا سکتا ہے خاموش شکایت کے سوا
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 151)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.