میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے
میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے
کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے
جو ان کی گلی ہے وہی در اصل ہے جنت
در اصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے
اے صلِ علیٰ صاحبِ معراج کی سیرت
جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے
شاید درِ احمد سے صبا لائی ہو اس کو
چہرے پہ یہی سوچ کے یہ خاک ملی ہے
گردن نہ جھکی آپ کی مخلوق کے آگے
اللہ ری کیا شانِ حسین ابن علی ہے
اللہ ادھر سے بھی مدینے کی ہواؤ
کچھ روز سے پژ مردہ مرے دل کی کلی ہے
کوثرؔ غمِ کونین سے دل ہوگیا فارغ
اب عشقِ نبی زیست کا عنوانِ جلی ہے
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 18)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.