Font by Mehr Nastaliq Web

میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

کوثر نیازی

میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

    کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے

    جو ان کی گلی ہے وہی در اصل ہے جنت

    در اصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے

    اے صلِ علیٰ صاحبِ معراج کی سیرت

    جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے

    شاید درِ احمد سے صبا لائی ہو اس کو

    چہرے پہ یہی سوچ کے یہ خاک ملی ہے

    گردن نہ جھکی آپ کی مخلوق کے آگے

    اللہ ری کیا شانِ حسین ابن علی ہے

    اللہ ادھر سے بھی مدینے کی ہواؤ

    کچھ روز سے پژ مردہ مرے دل کی کلی ہے

    کوثرؔ غمِ کونین سے دل ہوگیا فارغ

    اب عشقِ نبی زیست کا عنوانِ جلی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 18)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے