آدمیت کی علامت ہے ولائے مصطفیٰ
آدمیت کی علامت ہے ولائے مصطفیٰ
مصطفیٰ دل کے لیے دل ہے برائے مصطفیٰ
ہے رضائے مصطفیٰ میں ربِ کعبہ کی رضا
ربِ کعبہ کی رضا میں ہے رضائے مصطفیٰ
کچھ نہیں معلوم کیا ہے قصہ ذات و صفات
تجھ پہ ہم ایمان لائے اے خدائے مصطفیٰ
شکل انسانی میں قرآنِ مجسم آپ ہیں
شرحِ فرمانِ خدا ہے ہر ادائے مصطفیٰ
حشر کی گرمی اسے کچھ بھی ستا سکتی نہیں
جس کو سایہ مل گیا زیر لوائے مصطفیٰ
دو جہاں کی بادشاہی سے بڑا ہے یہ شرف
کاش میں کہلاؤں اک ادنیٰ گدائے مصطفیٰ
آرزو دل میں یہ رکھتا ہوں خدا پوری کرے
جب مروں کوثرؔ زباں پر ہو ثنائے مصطفیٰ
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 25)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.