دنیا کی محبت ہے نہ کچھ یاد بتاں ہے
دنیا کی محبت ہے نہ کچھ یاد بتاں ہے
پھر سوئے حرم قافلۂ شوق رواں ہے
آنکھوں سے برستے ہوئے پانی نے ہوا دی
سینے میں محبت کا شرر شعلہ فشاں ہے
اے ختم رسل ہے یہ ترے عشق کا اعجاز
دیوانہ ترا خاتم آشفتہ سراں ہے
آنکھوں میں سمائے ہیں یہ کس شوخ کے جلوے
خود حسنِ ازل آج نگاہوں پہ عیاں ہے
زاہد! تجھے افلاک پہ فردوس مبارک
میرے لیے طیبہ کی زمیں باغ جناں ہے
اس قلب خطا کار میں بیتاب ہیں سجدے
اللہ رے کیا مسجد نبوی کی اذاں ہے
کوثرؔ ہے یہ کیفیت انوارِ مدینہ
ہر ذرہ یہاں خاک کا خورشید نشاں ہے
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 27)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.