Font by Mehr Nastaliq Web

دنیا کی محبت ہے نہ کچھ یاد بتاں ہے

کوثر نیازی

دنیا کی محبت ہے نہ کچھ یاد بتاں ہے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    دنیا کی محبت ہے نہ کچھ یاد بتاں ہے

    پھر سوئے حرم قافلۂ شوق رواں ہے

    آنکھوں سے برستے ہوئے پانی نے ہوا دی

    سینے میں محبت کا شرر شعلہ فشاں ہے

    اے ختم رسل ہے یہ ترے عشق کا اعجاز

    دیوانہ ترا خاتم آشفتہ سراں ہے

    آنکھوں میں سمائے ہیں یہ کس شوخ کے جلوے

    خود حسنِ ازل آج نگاہوں پہ عیاں ہے

    زاہد! تجھے افلاک پہ فردوس مبارک

    میرے لیے طیبہ کی زمیں باغ جناں ہے

    اس قلب خطا کار میں بیتاب ہیں سجدے

    اللہ رے کیا مسجد نبوی کی اذاں ہے

    کوثرؔ ہے یہ کیفیت انوارِ مدینہ

    ہر ذرہ یہاں خاک کا خورشید نشاں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے