Font by Mehr Nastaliq Web

فطرت کا وہ پیمانِ وفا یاد نہیں ہے

کوثر نیازی

فطرت کا وہ پیمانِ وفا یاد نہیں ہے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    فطرت کا وہ پیمانِ وفا یاد نہیں ہے

    فریاد کہ دنیا کو خدا یاد نہیں ہے

    کیا سحر ہے اس شوخ کا اندازِ تبسم

    اب کچھ بھی تبسم کے سوا یاد نہیں ہے

    اب عشق بھلا بیٹھا ہے اخلاص کا انداز

    اب حسن کو پہلی سی ادا یاد نہیں ہے

    کیا مجھ سے ہوئی عرضِ تمنا میں جسارت

    کیوں ہوگئے وہ مجھ سے خفا یاد نہیں ہے

    بیمارِ محبت کا اب اللہ نگہباں

    اس آنکھ کو پیغامِ شفا یاد نہیں ہے

    صیاد نہ کر نغمہ سرائی کے تقاضے

    اب مجھ کو گلستاں کی فضا یاد نہیں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 34)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے