فطرت کا وہ پیمانِ وفا یاد نہیں ہے
فطرت کا وہ پیمانِ وفا یاد نہیں ہے
فریاد کہ دنیا کو خدا یاد نہیں ہے
کیا سحر ہے اس شوخ کا اندازِ تبسم
اب کچھ بھی تبسم کے سوا یاد نہیں ہے
اب عشق بھلا بیٹھا ہے اخلاص کا انداز
اب حسن کو پہلی سی ادا یاد نہیں ہے
کیا مجھ سے ہوئی عرضِ تمنا میں جسارت
کیوں ہوگئے وہ مجھ سے خفا یاد نہیں ہے
بیمارِ محبت کا اب اللہ نگہباں
اس آنکھ کو پیغامِ شفا یاد نہیں ہے
صیاد نہ کر نغمہ سرائی کے تقاضے
اب مجھ کو گلستاں کی فضا یاد نہیں ہے
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 34)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.