چھیڑوں جو ذکر شاہِ زماں جھوم جھوم کر
چھیڑوں جو ذکر شاہِ زماں جھوم جھوم کر
چومیں ملائکہ یہ زباں جھوم جھوم کر
اللہ الہ زارِ مدینے کی نزہتیں
قربان ہے بہارِ جناں جھوم جھوم کر
ذکرِ جناں پہ طیبہ نگاہوں میں پھر گیا
پہنچی نظر کہاں سے کہاں جھوم جھوم کر
جلوے جو ان کی نعلِ مقدس کے عام ہوں
سوئے زمیں فلک ہو رواں جھوم جھوم کر
چٹکی جو یادِ زلفِ نبی میں کہیں کلی
مہکی فضائے عطر فشاں جھوم جھوم کر
کل دیکھنا کہ ان کے گناہ گار کی طرف
رحمت بڑھے گی سایہ کناں جھوم جھوم کر
ان کے تصورات میں ہم جب بھی کھو گئے
آیا سرورِ کون و مکاں جھوم جھوم کر
میں بارگاہِ قرب میں بڑھتا چلا گیا
کہتا رہا جو اچھے میاں جھوم جھوم کر
ہوتا ہے ذکر لذت کوثر جہاں خلیلؔ
پیتے ہیں بادہ نوش وہاں جھوم جھوم کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.