کس منہ سے شکر کیجیے پروردگار کا
کس منہ سے شکر کیجیے پروردگار کا
عاصی بھی ہوں تو شافع روزِ شمار کا
گیسو کا ذکر ہے تو کبھی روئے یار کا
یہ مشغلہ ہے اب مرا لیل و نہار کا
چلنے لگی نسیمِ سحر خلد میں ادھر
دامن ادھر بلا جو شہِ ذی وقار کا
دامن پکڑ کے رحمتِ حق کا مچل گیا
اللہ رے حوصلہ دل عصیاں شعار کا
خوشبو اڑا کے باغِ دیارِ رسول سے
ہے عرش پہ دماغ، نسیمِ بہار کا
سرمہ نہیں ہے آنکھوں میں غلمان و حور کی
اڑتا ہوا غبار ہے ان کے دیار کا
ناکارہ ہے خلیلؔ تو یارب نہ لے حساب
آساں ہے بخشنا تجھے ناکارہ کار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.