اگر میں عہدِ رسالت مآب میں ہوتا
اگر میں عہدِ رسالت مآب میں ہوتا
ضرور حلقۂ عالی جناب میں ہوتا
جو میری سوچ مہکتی ثنا کے پھولوں سے
تو ہر عمل مرا شامل ثواب میں ہوتا
مرے سوال کی لکنت پہ مسکراتے حضور
کرم کا بہتا سمندر جواب میں ہوتا
اگر اعانتِ دیں کے لیے بلاتے حضور
تو میرا ہاتھ بھی دست جناب میں ہوتا
میں ایک ایک صدا پر لپٹتا قدموں سے
جو میرا نام بھی شامل خطاب میں ہوتا
میں آنکھ کھول کے پھر خواب کی دعا کرتا
مرا نصیب جو بیدار خواب میں ہوتا
میں جان اپنی نچھاور حضور پر کرتا
مرا بھی ذکر شہیدوں کے باب میں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.