اپنے دامانِ شفاعت میں چھپائے رکھنا
اپنے دامانِ شفاعت میں چھپائے رکھنا
میرے سرکار میری بات بنائے رکھنا
ان کے ہو جاؤ تو پھر ان سے ان ہی کو مانگو
اپنے دامن پہ نہ احسان پرائے رکھنا
میں نے مانا کہ نکما ہوں مگر آپ کا ہوں
اس نکمے کو بھی سرکار نبھائے رکھنا
ان کے آنے کی گھڑی ہے وہ ہے آنے والے
میرے سرکار کی محفل کو سجائے رکھنا
آپ کی یاد نے آباد کیا ہے من کو
بندہ پرور میری ہستی کو بسائے رکھنا
آپ یاد آئے تو پھر یاد نہ آئی کوئی
غیر کی یاد میرے دل سے بھلائے رکھنا
جب سوا نیزے پہ خورشیدِ قیامت آئے
اپنی زلفوں کے گنہگار پے سائے رکھنا
شاید اس راہ سے خالدؔ میرے آقا گزریں
اپنی پلکوں کو سرِ راہ بچھائے رکھنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.