قربان میں ان کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
قربان میں ان کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
خالد محمود نقشبندی
MORE BYخالد محمود نقشبندی
قربان میں ان کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
بن مانگے دیا اور اتنا دیا دامن میں ہمارے سمایا نہیں
ایمان ملا ان کے صدقے قرآن ملا ان کے صدقے
رحمٰن ملا ان کے صدقے وہ کیا ہے جو ہم نے پایا نہیں
ان کا تو شعار کریمی ہے مائل بہ کرم ہی رہتے ہیں
جب یاد کیا اے صل علیٰ وہ آ ہی گئے تڑپایا نہیں
جو دشمن جاں تھے ان کو بھی دی تم نے اماں اپنوں کی طرح
یہ عفو و کرم اللہ اللہ یہ خلق کسی نے پایا نہیں
وہ رحمت کیسی رحمت ہے مفہوم سمجھ لو رحمت کا
اس کو بھی گلے سے لگایا ہے جسے اپنا کسی نے بنایا نہیں
مونس ہیں وہی معزوروں کے غمخوار ہیں سب مجبوروں کے
سرکارِ مدینہ نے تنہا کس کس کا بوجھ اٹھایا نہیں
دل بھر گئے منگتوں کے لیکن دینے سے تری نیت نہ بھری
جو آیا اسے بھر بھر کے دیا محروم کبھی لوٹایا نہیں
آواز کرم دیتا ہی رہا تھک ہار گئے لینے والے
منگتوں کی ہمیشہ لاج رکھی محروم کبھی لوٹایا نہیں
رحمت کا بھرم بھی تم سے ہے شفقت کا بھرم بھی تم سے ہے
ٹھکرائے ہوئے انسان کو بھی تم نے تو کبھی ٹکھرایا نہیں
خورشید قیامت کی تابش مانا کہ قیامت ہی ہوگی
ہم ان کے ہیں گھبرائیں کیوں کیا ہم پہ نبی کا سایہ نہیں
اس محسنِ اعظم کے یوں تو خالدؔ پہ ہزاروں احساں ہیں
قربان مگر اس احساں کے احساں بھی کیا تو جتایا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.