Font by Mehr Nastaliq Web

تو کہ فخر چشتیاں ہے صوفیٔ عالی مقام

خار دہلوی

تو کہ فخر چشتیاں ہے صوفیٔ عالی مقام

خار دہلوی

MORE BYخار دہلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    تو کہ فخر چشتیاں ہے صوفیٔ عالی مقام

    سر جھکاتا ہوں ادب سے تجھ کو کرتا ہوں سلام

    طوطیٔ شیریں مقالی طوطیٔ ہندوستاں

    اس لقب سے جانتے ہیں تجھ کو سب خورد و کلاں

    تو وہ سالک تھا کہ سوز و عشق سے جلتا رہے

    اپنی آنکھیں پیر کے تلووں سے تو ملتا رہے

    کی دو طرفہ مار ایسی عشق کے اس تیر نے

    اپنے پہلو میں جگہ دی تجھ کو تیرے پیر نے

    وہ ذہانت تھی طبیعت میں نہیں جس کی مثال

    تجھ سا صدیوں میں نہ پیدا ہوسکا صاحب کمال

    شاعرِ رنگیں بیاں تھا اور موسیقار تھا

    جس کی گھٹی میں پڑا تھا فن تو وہ فنکار تھا

    شہرۂ آفاق ہو تو یہ تیرا مقسوم تھا

    خود ادب خادم تھا تیرا اور تو مخدوم تھا

    طبع کی جدت سے راگ اور راگنی پیدا کئے

    اور بہرِ خوش گلویاں ساز بھی پیدا کئے

    مستند اہلِ زباں میں فارسی کا ہے کلام

    اور ہندی والے تجھ کو یاد رکھیں گے مدام

    وہ پہیلی اور مکرنی تیرے دوہے تیرے گیت

    آج بھی سکھلا رہے ہیں پریت کی دنیا کو ریت

    فارسی ہندی کا تو نے کچھ ملایا ایسا میل

    پڑ گئی اس ملک میں اردو زباں کی داغ بیل

    تو تھا ایک درویش کامل عابد شب زندہ دار

    اپنی صحبت میں مگر رکھتے تھے تجھ کو تاجدار

    ہے زباں قاصر تیرے اوصاف ہوں کیوں کر بیاں

    ہو ادا حقِ ثنا خوانی میری ہمت کہاں

    رہتی دنیا تک رہے گا نام لافانی ہے تو

    الغرض یہ قول فیصل ہے کہ لاثانی ہے تو

    از سرِ نو تا چراغ آرزو روشن شود

    لطف کن بر ما کہ ایں صحرائے دل گلشن شود

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 40)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے