یہاں جب شمع روشن ہے تو پروانے کہاں جائیں
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
یہاں جب شمع روشن ہے تو پروانے کہاں جائیں
لٹا دیں گے یہیں اب جان دیوانے کہاں جائیں
ہمیں تو مل گیا ہے آستانِ شیخ قسمت سے
جنونِ شوق کو اب پھر سے الجھانے کہاں جائیں
عطا ہوتی ہے اس در سے فقیروں کو شہنشاہی
اسے ہم چھوڑ کر دامن کو پھیلانے کہاں جائیں
کبھی اس در سے کوئی غیر بھی خالی نہیں جاتا
پرستار آپ کے یہ جانے پہچانے کہاں جائیں
نگاہِ لطف سے مٹ جائے گی سب بے کلی دل کی
مریضِ عشق اپنی نبض دکھلانے کہاں جائیں
مٹا دو تشنگی پیاسوں کی اب تو پیر میخانہ
شرابِ عشق پینے رند میخانے کہاں جائیں
جبینِ شوق نے بوسے لیے اس آستانے کے
خضرؔ ہم اپنی قسمت کو بدلوانے کہاں جائیں
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 77)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.