Font by Mehr Nastaliq Web

یہاں جب شمع روشن ہے تو پروانے کہاں جائیں

خضر برنی

یہاں جب شمع روشن ہے تو پروانے کہاں جائیں

خضر برنی

MORE BYخضر برنی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    یہاں جب شمع روشن ہے تو پروانے کہاں جائیں

    لٹا دیں گے یہیں اب جان دیوانے کہاں جائیں

    ہمیں تو مل گیا ہے آستانِ شیخ قسمت سے

    جنونِ شوق کو اب پھر سے الجھانے کہاں جائیں

    عطا ہوتی ہے اس در سے فقیروں کو شہنشاہی

    اسے ہم چھوڑ کر دامن کو پھیلانے کہاں جائیں

    کبھی اس در سے کوئی غیر بھی خالی نہیں جاتا

    پرستار آپ کے یہ جانے پہچانے کہاں جائیں

    نگاہِ لطف سے مٹ جائے گی سب بے کلی دل کی

    مریضِ عشق اپنی نبض دکھلانے کہاں جائیں

    مٹا دو تشنگی پیاسوں کی اب تو پیر میخانہ

    شرابِ عشق پینے رند میخانے کہاں جائیں

    جبینِ شوق نے بوسے لیے اس آستانے کے

    خضرؔ ہم اپنی قسمت کو بدلوانے کہاں جائیں

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 77)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے