سراپا شوق بن جائے سلامی ہو تو ایسی ہو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
سراپا شوق بن جائے سلامی ہو تو ایسی ہو
اٹھائے بھی نہ اٹھے سر غلامی ہو تو ایسی ہو
بنے محبوب، محبوبِ الٰہی کے شرف دیکھو
محبت ایک در سے اور دوامی ہو تو ایسی ہو
فقیری پر امیری کو کیا قربان خسرو نے
گدائی کی عطا ہے شادکامی ہو تو ایسی ہو
فرشتے رشک کرتے ہیں بشر کی کیا حقیقت ہے
کسی کی دوجہاں میں نیک نامی ہو تو ایسی ہو
معطر ہوں فضائیں ہر طرف اک کیف چھا جائے
میسر آدمی کو خوش کلامی ہو تو ایسی ہو
نوازا پیر و مرشد نے خضرؔ کچھ ایسا خسرو کو
کسی پر ملتفت چشمِ نظامی ہو تو ایسی ہو
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 76)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.