تخیل فکر کیا ہے چل نکل کے قلبِ مضطر سے
تخیل فکر کیا ہے چل نکل کے قلبِ مضطر سے
گلِ مضمون مل جائیں گے تجھ کو باغِ حیدر سے
ستاروں سے مہ کامل سے اور خورشید خاور سے
نظر آتا ہے جلوہ نورِ خالق کا نئے سرسے
گلستاں جہاں سے کوہ و صحرا بحر اور برسے
عیاں دلچسپیاں لاکھوں ہیں شانِ ربِ اکبر سے
گل ترجس گلستانِ جہاں پر کھلنے والا ہے
یہ وہ غنچہ ہے جس کا ہے تعلق باغِ حیدر سے
خوشی سے آج چوتھے آسماں ہے پر دماغ اس کا
فزوں تر آج ہے بخت صبا بختِ سکندر سے
بلا کی شوخیاں ہیں اور قیامت کی ادائیں ہیں
بڑھی ہے آج رفتارِ صبا آثارِ محشر سے
ادھر بادِ صبا نکلی، اُدھر مرغِ سحر بولے
اٹھے سب سونے والے نعرۂ اللہ اکبر سے
کسی کی نیم وا آنکھیں ہیں اور کروٹ بدلتا ہے
کوئی انگرائیاں لیتا ہو اٹھا ہے بستر سے
خمار آلود آنکھوں میں ہیں مستِ خواب کے ڈورے
وہ سب بکھرے ہوئے گیسو ہٹانا روئے انور سے
کسی کی ہجر کی شب کروٹیں لیتے ہی گزری ہے
کوئی اٹھا ہے شرماتا ہوا آغوش دلبر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.