ترے در پر خالق ذوالمنن جو مری جبین نیاز ہو
ترے در پر خالق ذوالمنن جو مری جبین نیاز ہو
مجھے بے کسی پہ غرور ہو مجھے بے نوائی پہ ناز ہو
مجھے سوزِ عشق کا ساز دے، مجھے دردِ زہرا گداز دے
مری مثل مثلِ شمع ہو آبرو، یہی میرا سوز و گداز ہو
مری یاس کی شب تار میں، مرے غم کے گردو غبار میں
ترا لطف چاره نواز ہو، ترا نور جلوہ طراز ہو
غم ماسوا سے نجات دے، مجھے اپنے غم کی برات دے
درِ غیر مجھ پہ فراز ہو، فقط ایک در ترا باز ہو
کوئی ایسا طرفہ نظام ہو کہ جہاں کا صدق پہ کام ہو
نہ ہوس کے ہاتھ زمام ہو نہ یہ نفس کی تنگ و تاز ہو
دل دیدہ میں وہ سمائے تو، وہ شرار شوق جگائے تو
مرے ارغنونِ حیات میں یہی پردہ ہو، یہی ساز ہو
مرا حسبی اللہ حصار ہو مرا لا تحف پہ قرار ہو
ہو مرا مقام بلند تر جو کمند فتنہ دراز ہو
تجھے ناظرؔ اتنی ہو فکر کیوں، غم و اضطراب کا ذکر کیوں
ترے فکرِ کار میں رات دن جو ترا غریب نواز ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.