دولتِ دنیا نہ اسبابِ جہاں درکار ہے
دولتِ دنیا نہ اسبابِ جہاں درکار ہے
مجھ کو بس لطفِ شہِ کون و مکان درکار ہے
غم کے صحرا میں ہوں تنہا ہر طرف ہے تیز دھوپ
یا رسول اللہ کرم کا سائباں درکار ہے
تیرے در کو چھوڑ کر جاؤں تو اب جاؤں کہاں
اے پناہِ عاصیاں تیری اماں درکار ہے
میرے غم خانے کی بھی تاریکیاں کافور ہوں
چشمِ رحمت اے سراجِ ضوفشاں درکار ہے
طائرِ جاں جو ہے عرصہ سے گرفتارِ الم
گلشنِ طیبہ میں اس کو آشیاں درکار ہے
جس کی توقیر و بلندی پر ہے رشک افلاک کو
سجدہ دل کے لیے وہ آستاں درکار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.