رات دن سارا جہاں ہوتا ہے اس سے سیراب
رات دن سارا جہاں ہوتا ہے اس سے سیراب
ہے رواں لطف و کرم کا ترے دریا آقا
منزلیں خود ہی قدم لیتی ہیں بڑھ کر ان کے
جن کو مل جائے ترا نقشِ کفِ پا آقا
درسِ فرزانگی لیتا ہے زمانہ ان سے
تیرے دیوانے ہی دراصل ہیں دانا، آقا
اپنے عابدؔ پہ رہے چشمِ عنایت ہر دم
دو جہاں میں ہے اسے تیرا سہارا آقا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.