رہبر و رہنما حضور مرشد و مقتدا حضور
رہبر و رہنما حضور مرشد و مقتدا حضور
قلب کی آرزو حضور روح کا مدعا حضور
میرے لیے خدا کے بعد سب کچھ انہی کی ذات ہے
عشق کی ابتدا حضور عشق کی انتہا حضور
میرے لیے چراغِ راہ میرے لیے رہِ عمل
آپ نے جو کہا حضور آپ نے جو کیا حضور
آپ کی ذاتِ پاک کا کتنا بڑا ہے یہ کرم
آپ کی ذاتِ پاک سے ہم کو ملا خدا حضور
معطی کائنات کے قاسمِ نعمت آپ ہیں
آپ کے ہاتھ سے ملا جو بھی ہمیں ملا حضور
صلِ علىٰ محمدا وردِ زباں ہے رات دن
کتنی ہے اس غلام پر آپ کی یہ عطا حضور
سر پر اندھیری رات ہے کشتیِ جاں بھنور میں ہے
شکرِ خدا کہ اس گھڑی ہیں میرے ناخدا حضور
عابدؔ خستہ و حزیں اور ہے کون آسرا
محفلِ کائنات میں پروردگار یا حضور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.