زہے قسمت جو محبوبِ خدا اذنِ حضوری دیں
زہے قسمت جو محبوبِ خدا اذنِ حضوری دیں
خوشا وقتے کہ جب ہو جانبِ طیبہ سفر میرا
وہ رستے جن پہ ہیں نقشِ قدم محبوبِ باری کے
میں آنکھوں سے انہیں چوموں گزر ہو گر ادھر میرا
بحمداللہ نعتِ مصطفیٰ ہے میرا سرمایہ
عدم کی منزلوں میں ہے یہی رختِ سفر میرا
مواجہ پر ہوا ایسا کرم سرکارِ والا کا
نشانِ عفو و بخشش بن گیا دامانِ تر میرا
مری بے تابیِ جاں کو قرار آئے گا طیبہ میں
مسیحا ہے وہیں میرا وہیں ہے چارہ گر میرا
میں عابدؔ جذب ہو جاؤں مدینے کی فضاؤں میں
بنے تا حشر شہرِ روحِ عالم مستقر میرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.