پہیلیوں کا رچیتا وہ زندہ دل شاعر
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
پہیلیوں کا رچیتا وہ زندہ دل شاعر
سہیلیوں کا چہیتا وہ عشق کا کافر
جو کہہ مکرنیوں اور چٹکلوں کا تھا رسیا
وہ میت گیتوں کا اہلِ وفا کا من بسیا
وہ نغمہ سنج عظیم و شہیر، وہ فاضل
مرید پہنچے ہوئے پیر کا، خدا مائل
وہ مردِ مستانہ
خیال و ایمن و قول و ترانہ، قلبانہ
اسی کی دین ہیں سنگیت کو، اسی نے تو
وہ اجتہادِ سراپا تھا نابغہ خسرو
ستار کو وہ رسیلا، انوپ روپ دیا
کہ جس نے اپنے سروں سے دلوں کو موہ لیا
کئی زبانوں کا ماہر تھا رہبرِ کامل
فریدِ عصر تھا، سرشار عالمِ و عامل
وہ فارسی کا سخن ور، کوی تھا ہندی کا
وہ ترکی و عربی، سنسکرت کا بھی شیدا
اسے عزیز تھی پنجابی اور سندھی بھی
کہی اسی نے غزل سب سے پہلے اردو کی
کہ جدت و ندرت
صفت تھی اس کے شعورِ ہزار پہلو کی
وہ اتحادِ مذاہب کا شوخ پیغمبر
تھا بیکسوں کا حبیب لبیب، ژرف نظر
حق آشنا تھا بشر دوستی کا موسیقار
عطا وجود کا پیکر، غنا کا شاہسوار
غبارِ راہ سمجھتا تھا مال و دولت کو
وطن پرست فقیر امیر دل خسروؔ
امیر ایسے ہی، دھرتی کا غم بٹاتے ہیں
فقیر ایسے تو صدیوں کے بعد آتے ہیں
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 44)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.