روضۂ مصطفیٰ ہے مرے سامنے
فضلِ ربِ علیٰ ہے مرے سامنے
ہے زباں میری گنگ اور خیره نگاه
معجزاتی فضا ہے مرے سامنے
اب نکل کر مرے کلبۂ خاک سے
روح نغمہ سرا ہے میرے سامنے
اشک ہائے ندامت کا یہ روپ ہے
رحمتوں کی گھٹا ہے میرے سامنے
ہیں مدینے کے دیوار و در گلفشاں
اک گلستان کھلا ہے میرے سامنے
اللہ اللہ مواجہ کے نزدیک ہوں
میرا بختِ رسا ہے میرے سامنے
وہ خزینہ کہ سرمایۂ عشق ہے
جالیوں سے ورا ہے میرے سامنے
کاش میرا دم نکل جائے مولیٰ یہیں
اب درِ مصطفیٰ ہے مرے سامنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.