اے رسول پاک باطن منزلِ حق آشنا
اے رسول پاک باطن منزلِ حق آشنا
پیشوائے دین و ملت حامی ملکِ خدا
تیری الفاظ و معانی سے ہے بالا تر ثنا
شان میں تیری کہا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ
بھیجتی خلقِ خدا ہے تجھ پہ یوں صدہا سلام
جور و استبداد سے ہیں سب کے دل زخمی یہاں
چل رہی ہیں ہر طرف ظلم و ستم کی آندھیاں
خون پانی ہو کے اب ہے اپنی رگ رگ میں رواں
وقت ہے امداد کا یہ اے نبی انس و جاں
عرشِ اعظم سے ہے تیرے واسطے اترا سلام
مضطرب خلقِ خدا ہے وقت ہے یہ جلد آ
ہر طرف افلاس سے اک شورِ محشر ہے بپا
بھائی بھائی لڑ رہے ہیں ہوگئے وقفِ بلا
نالہ ہائے دل سے اپنے گونج اٹھی ہے فضا
اب خدا کے واسطے سے لیجیے میرا سلام
ہیں احادیث آپ کی دنیا میں بہرِ انتظام
ہے زبانوں پر رواں وہ آپ کا شیریں کلام
آپ کے الطاف کے شیدا یہاں ہیں خاص و عام
آپ ہی کا نام دنیا میں ہوا خیرالانام
ہے زمانہ میں رواں یہ آپ کا سکہ سلام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.