یہیں سے پائی ہے انسانیت کی روشنی ہم نے
یہیں سے پائی ہے انسانیت کی روشنی ہم نے
در خواجہ سے سیکھا اتحاد باہمی ہم نے
ستایا جب زمانے نے تو تم کو ہی پکار اہے
تمہارے آسرا پر ناؤ اپنی چھوڑ دی ہم نے
بقائے مطفائی ہوادائے بوترابی ہو
اسی نسبت سے پائی قلب میں بالیدگی ہم نے
ہمارے دل میں آکر تلخی ایام کیا لے گی
تمہارے لطف کی خواجہ چکھی ہے چاشنی ہم نے
لئیقؔ دل شسکستہ کیا کہے احوال دل خواجہ
نگاہوں میں ہی اپنی جذب کر لی ہر نمی ہم نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.