پنڈ کی جب تصور میں چھائی فضا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت شاہ رضوان الہدیٰ قادری (پنڈ-شیخ پورہ)
پنڈ کی جب تصور میں چھائی فضا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
پیر و مرشد کا جب چھڑ گیا تذکرہ میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
مرحبا شاکری رنگ وہ رنگ ہے دیکھ کر یہ زمانہ جسے دنگ ہے
غوثِ بغداد کا جب کرم ہوگیا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
حشر میں کوئی ہوگا کسی کی طرف مجھ کو مرشد بلائیں گے اپنی طرف
من ہی من میں مرا دل مچلنے لگا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
ان پہ کرتا تھا ذوقِ عبادت بھی ناز جب تہجد کی پڑھتے تھے حضرت نماز
دیکھ کر آج فیضاں کی پیاری ادا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
خود ہی تاجِ شریعت نے جن کو چنا اپنے ہاتھوں بلا کر خلافت دیا
جن کو کہتی ہے دنیا یہ شیر رضا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
اٹھی توصیفِ ملت کی نگہِ سخا کر دی فیضان کو بھی خلافت عطا
اعلیٰ حضرت کے در سے یوں تحفہ ملا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
شاہ رضواں نے پیشانی کو چوم کر بولے سن میرے فیضان لختِ جگر
ہے ہمیشہ تیرے ساتھ میری دعا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
آئی آواز مہدیؔ کی کیا بات ہے اس پہ مرشد کا فیضان دن رات ہے
فیض یوں مل گیا پوتے حمدان کا میرے رضواں مجھے یاد آنے لگے
- کتاب : Bagh-e-Rizwan (Pg. 150)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.