بیمارِ عشق کا ہوں تمہی چارہ ساز ہو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان بندہ نواز گیسو دراز خواجہ سید محمد حسینی (گلبرگہ-کرناٹک)
بیمار عشق کا ہوں تمہی چارہ ساز ہو
اب مہر کی نظر میرے بندہ نواز ہو
پڑتا ہے کام عشق میں جب سوز و ساز سے
آنکھیں رہیں پُر اشک تو دل میں گداز ہو
گر دل میں درد ہو تو تڑپنے کا لطف ہے
بیمار ہو کوئی تو کوئی چارہ ساز ہو
اے خواجہ تم غریب نوازی میں مثل ہو
محمود تم بنو تو یہ بندہ ایاز ہو
دیکھوں جمالِ حق کو میں خواجہ کی شان میں
یا رب نصیب یوں نگہِ امتیاز ہو
زلفِ رسا کا آپ کی سودا ہے اس لیے
مشہورِ خاص و عام میں گیسو دراز ہو
وہ رند ہوں میں شیخ اگر جاؤں خلد میں
دامانِ حورئین میری جانماز ہو
ہے عمرِ خضر آپ کی کاکل کا ایک مو
فضلِ خدا سے آپ وہ گیسو دراز ہو
احوالِ زار سے یہ تغافل ہے کس لیے
اپنے نیاز مند سے کیوں بے نیاز ہو
دل شادؔ مجھ کو رکھیے اور اولاد کو مری
میں ہوں فقیر آپ تو بندہ نواز ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.