کہوں کیا مرتبہ کیا ہے غلامانِ محمد کا
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔
کہوں کیا مرتبہ کیا ہے غلامانِ محمد کا
وہ اچھوں سے بھی اچھا ہے جو عصیاں کار ہے حد کا
سراپا پُر خطا ہوں میں مگر آلِ محمد ہوں
تکیں گے نیک منہ تم دیکھنا محشر میں مجھ بدکا
کھڑے ہیں صف بصف حور و ملک عرشِ معلیٰ پر
خدا جانے کہ شہرہ ہے یہ کس کی آمد آمد کا
نبی کا امتی ہوں واعظو تم کیوں ڈراتے ہو
مجھے کچھ غم ہے محشر کا نہ ہے کچھ خوف مرقد کا
وہ جب نورِ مجسم ہیں سراپا رحمتِ عالم
کھنچے نقشہ نہیں ممکن کمر کا خال کا خد کا
محمد جس سے ناخوش ہوں خدا خوش ہو نہیں سکتا
مخالف ہے محمد کا مخالف بزم مولد کا
مزہ جب ہے مدینہ میں ملے دو گز زمیں ماہرؔ
یہ قدموں میں محمد کے رہے شیدا محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.