ادھر آؤ پیرِ حرم غوث اعظم
دلچسپ معلومات
منقبت در شان شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
ادھر آؤ پیرِ حرم غوث اعظم
یہ دیکھو مری چشم نم غوث اعظم
یہ ایمان ہے کالنّی قوم میں ہو
یہ اعلان ہے لاجرم غوث اعظم
لکھوں جب کبھی اسم اعظم تمہارا
مٹا دوں گا ہر حرفِ غم غوث اعظم
تمہارے رخ پاک کے سامنے کیوں
خجل ہوگیا جامِ جسم غوث اعظم
گنہگار بندہ ہوں بہر شفاعت
غلامی رہے کم سے کم غوث اعظم
ہمیں ناز ہے لاج رکھ لیں گے آقا
غلامِ طریقت ہیں ہم غوث اعظم
الی اللہ من اللہ مع اللہ ھواللہ
ھوالشیخ ہو میرا دم غوث اعظم
حقیقت ہے وہ جس نے دیکھا نبی کو
جو دیکھا تمہیں کم سے کم غوث اعظم
محیط الرجال ملاذ الرجال
کہ انوار بانی الحرم غوث اعظم
باذنی فقل لی فقم غوث اعظم
ھوالحی قیوم قم غوث اعظم
میرے آنسوؤں کی وضاحت یہی ہے
کہ ہیں آب و آتش بہم غوث اعظم
میری منزلوں کی یہی آبرو ہے
طہارت بخاک قدم غوث اعظم
بلا خوف تردید کہتا ہے سالکؔ
اغثنی تمہاری قسم غوث اعظم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.