Font by Mehr Nastaliq Web

جب سے وہ روضہ دیکھا ہے صورت ہی اور ہے

محشر بدایونی

جب سے وہ روضہ دیکھا ہے صورت ہی اور ہے

محشر بدایونی

MORE BYمحشر بدایونی

    جب سے وہ روضہ دیکھا ہے صورت ہی اور ہے

    آنکھوں میں پیاس دل میں حرارت ہی اور ہے

    ہر طاقِ جاں سجاتا ہوں شمعِ ورود سے

    اب اہتمامِ حلقۂ فرصت ہی اور ہے

    آنسو امیدوار ہیں، آہیں نگہ طلب

    آب و ہوائے قریۂ رحمت ہی اور ہے

    لمسِ جبیں سے قلب میں اتریں حرارتیں

    صحن حرم میں لطفِ عبادت ہی اور ہے

    تاریخ ریگ وسنگ تھی ارض عرب تمام

    آپ آئے تب کھلا کہ حقیقت ہی اور ہے

    جب سے فضائے منبر و محراب میں ہے دل

    لفظوں میں گونج، فکر میں وسعت ہی اور ہے

    کوئی طلب بقدرِ مذاقِ طلب نہیں

    آسودہ جس سے ہوں اور ضرورت ہی اور ہے

    طے کر چکا بہت سفرِ آرزو بس اب

    طیبہ دوبارہ جانے کی حسرت ہی اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے