جب سے وہ روضہ دیکھا ہے صورت ہی اور ہے
جب سے وہ روضہ دیکھا ہے صورت ہی اور ہے
آنکھوں میں پیاس دل میں حرارت ہی اور ہے
ہر طاقِ جاں سجاتا ہوں شمعِ ورود سے
اب اہتمامِ حلقۂ فرصت ہی اور ہے
آنسو امیدوار ہیں، آہیں نگہ طلب
آب و ہوائے قریۂ رحمت ہی اور ہے
لمسِ جبیں سے قلب میں اتریں حرارتیں
صحن حرم میں لطفِ عبادت ہی اور ہے
تاریخ ریگ وسنگ تھی ارض عرب تمام
آپ آئے تب کھلا کہ حقیقت ہی اور ہے
جب سے فضائے منبر و محراب میں ہے دل
لفظوں میں گونج، فکر میں وسعت ہی اور ہے
کوئی طلب بقدرِ مذاقِ طلب نہیں
آسودہ جس سے ہوں اور ضرورت ہی اور ہے
طے کر چکا بہت سفرِ آرزو بس اب
طیبہ دوبارہ جانے کی حسرت ہی اور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.