نیازِ عجز کے آداب سے غافل نہ تھیں آنکھیں
نیازِ عجز کے آداب سے غافل نہ تھیں آنکھیں
حرم کی راہ میں بچھ جائیں اس قابل نہ تھیں آنکھیں
یہ عقدہ کس طرح کھولوں یہ نکتہ کیسے سمجھاؤں
کرم کی بارشیں کیوں ہیں اگر سائل نہ تھیں آنکھیں
چلا ہوں نورِ کعبہ ان میں لے کر منظرِ طیبہ
یہ اب مجھ پر کھلا چہرے پہ لا حاصل نہ تھیں آنکھیں
عجب تھا جوشِ گریہ اور عجب ہوشِ تصور تھا
طوافِ جلوہ میں حائل تھیں اور حائل نہ تھیں آنکھیں
چلا اشکِ رواں کا سلسلہ دامانِ رحمت سے
جو رستہ روک دے موجوں کا وہ ساحل نہ تھیں آنکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.