خوش ہیں کہ ہمیں احمدِ مختار ملا ہے
خوش ہیں کہ ہمیں احمدِ مختار ملا ہے
ہر بیکس و نادار کا غمخوار ملا ہے
چمکا ہے غلاموں کے مقدر کا ستارا
دنیا کو چراغِ رہِ احرار ملا ہے
چھوڑوں گا اسے میں نہ اگر جان بھی جائے
قسمت سے درِ سیدِ ابرار ملا ہے
آنکھوں سے بہا دو! فقط اک اشکِ ندامت
ہر بندۂ عاصی کا خریدار ملا ہے
اس قوم کو آساں نہیں دنیا سے مٹانا
جس قوم کو کونین کا سردار ملا ہے
ہر روح میں پنہاں ہے محمد کی حقیقت
ہر قلب کو سر چشمۂ انوار ملا ہے
محشرؔ ہے وہ زیست جو پُر پیچ تو کیا غم
احمد سا ہمیں قافلہ سالار ملا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.