شعورِ عشق مدینے کی سر زمین سے ملا
شعورِ عشق مدینے کی سر زمین سے ملا
دوا بھی، درد بھی جو کچھ ملا یہیں سے ملا
درِ نبی پہ نہ کیوں ہو گمانِ عرشِ بریں
کہ سچ تو یہ ہے خدا بھی ہمیں یہیں سے ملا
جہاں میں یوں تو مسیحا نفس ہوئے ہیں بہت
مگر نجات کا نسخہ اسی امیں سے ملا
خدا نے آپ کہا ہے تجھے سراجِ منیر
جہاں کو نورِ ہدایت تری جبیں سے ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.