Font by Mehr Nastaliq Web

سناؤں ہم نفس آ تجھ کو افسانہ محمد کا

محوی صدیقی

سناؤں ہم نفس آ تجھ کو افسانہ محمد کا

محوی صدیقی

MORE BYمحوی صدیقی

    سناؤں ہم نفس آ تجھ کو افسانہ محمد کا

    کہ میں ہوں روزِ اول ہی سے دیوانہ محمد کا

    نظر آئے جو شمعِ روضۂ انوار ان آنکھوں کو

    لپک کر دے وہیں پر جان دیوانہ محمد کا

    نہ آنسو آنکھ کے تھمتے نہ مٹتی ہے تڑپ دل کی

    سنا ہے جب سے ان کانوں نے افسانہ محمد کا

    قسم کھاتے ہیں اہلِ ہوش جس کی عقل و حکمت کی

    خدا شاہد وہ فرزانہ ہے دیوانہ محمد کا

    عرب کا ذرہ ذرہ آج تک سرشارِ وحدت ہے

    کبھی گردش میں آیا تھا جو پیمانہ محمد کا

    پیے دو گھونٹ جس نے اٹھ گئے کونین کے پردے

    یہ کس صہبا سے تھا لبریز پیمانہ محمد کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے