خسرو اک البیلا شاعر، جس کے روپ ہزار
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
خسرو اک البیلا شاعر، جس کے روپ ہزار
کہیں سپاہی، کہیں وہ صوفی، کہیں وہ موسیقار
شاہی درباروں میں بیٹھے، درباری کہلائے
آ کے فقیروں کی مجلس میں دل کی مرادیں پائے
من کی پیاس سے بے کل ہو کر پنگھٹ پنگھٹ گھومے
کوئی گگریا پھوٹ بہے تو لہر میں آ کر جھومے
چھیڑے اپنے سازِ سخن پر ایسے شوخ ترانے
جن کی اک اک تان کے اندر دھڑکیں لاکھ زمانے
آئینۂ دوش و فردا بے لوث طبیعت اس کی
کیا کچھ دیکھے اور دکھائے چشمِ بصیرت اس کی
روح کو مالا مال بنائیں اس کی باتیں اس کے بول
اک اک لفظ احساس کی دولت اک اک حرف انمول
اس نے کتابِ دل کی لکھیں وہ با معنی تفسیریں
صحیفحۂ جاں اہلِ محبت کا اس کی تحریریں
امر رہا ہے اور رہے گا اس کا نام و کلام
ثبت ہے لوحِ شام و سحر پر اس کا نقشِ دوام
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 32)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.