Font by Mehr Nastaliq Web

خسرو اک البیلا شاعر، جس کے روپ ہزار

مخمور سعیدی

خسرو اک البیلا شاعر، جس کے روپ ہزار

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    خسرو اک البیلا شاعر، جس کے روپ ہزار

    کہیں سپاہی، کہیں وہ صوفی، کہیں وہ موسیقار

    شاہی درباروں میں بیٹھے، درباری کہلائے

    آ کے فقیروں کی مجلس میں دل کی مرادیں پائے

    من کی پیاس سے بے کل ہو کر پنگھٹ پنگھٹ گھومے

    کوئی گگریا پھوٹ بہے تو لہر میں آ کر جھومے

    چھیڑے اپنے سازِ سخن پر ایسے شوخ ترانے

    جن کی اک اک تان کے اندر دھڑکیں لاکھ زمانے

    آئینۂ دوش و فردا بے لوث طبیعت اس کی

    کیا کچھ دیکھے اور دکھائے چشمِ بصیرت اس کی

    روح کو مالا مال بنائیں اس کی باتیں اس کے بول

    اک اک لفظ احساس کی دولت اک اک حرف انمول

    اس نے کتابِ دل کی لکھیں وہ با معنی تفسیریں

    صحیفحۂ جاں اہلِ محبت کا اس کی تحریریں

    امر رہا ہے اور رہے گا اس کا نام و کلام

    ثبت ہے لوحِ شام و سحر پر اس کا نقشِ دوام

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 32)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے