Font by Mehr Nastaliq Web

چاند الجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں

منصور آفاق

چاند الجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں

منصور آفاق

MORE BYمنصور آفاق

    چاند الجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں

    چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے

    جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی

    گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے

    رات ڈھلکائے ستارں سے مرصع آنچل

    کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں

    اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے

    آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں

    ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِ عکاظ

    سو چکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم

    رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا

    ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم

    میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی

    میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس

    میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل

    ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس

    اور اسی وقت ادھر غارِ حرا میں کوئی

    ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات

    جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسریٰ کا عذاب

    اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں ادھر لات و منات

    جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں

    دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اٹھتے ہیں

    زندہ در گور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی

    اس کے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں

    پھر محمد کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی

    سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے

    پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی

    صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے