جھکتا ہے جہاں وقت کی تلوار کے آگے
جھکتا ہے جہاں وقت کی تلوار کے آگے
اور وقت جھکا ہے مری سرکار کے آگے
خواجہ یہ کرم ہو کہ بجز ربِ دو عالم
یہ ہاتھ نہ پھیلے کبھی سنسار کے آگے
اس در کی غلامی کا شرف جس کو ملا ہے
وہ پائے گئے وقت کی رفتار کے آگے
کچھ عرضِ تمنا کی ضرورت نہیں منظرؔ
روشن ہے سبھی کچھ مرے سرکار کے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.