وہ جب آیا جہاں میں کفر پر چھاتا ہوا آیا
وہ جب آیا جہاں میں کفر پر چھاتا ہوا آیا
اجالا دین کا دنیا میں پھیلاتا ہوا آیا
عرب میں شام میں ایران میں فاراں کی چوٹی پر
وہ نورِ حق چمکتا اور چمکاتا ہوا آیا
جہاں میں تھے ہزاروں راستے باطل پرستی کے
وہ راہِ حق پہ اک ایک راہ کو لاتا ہوا آیا
جہاں میں تھے ہزاروں راستے باطل پرستی کے
وہ راہِ حق پہ اک ایک راہ کو لاتا ہوا آیا
یگانہ ہو کہ بیگانہ برا ہو یا بھلا کوئی
محبت کا ہر اک کو راز سمجھاتا ہوا آیا
گلستانِ محبت میں گلِ مقصود کی خاطر
بڑے اخلاص سے خاروں کو اپنا تا ہوا آیا
جدھر دیکھا ادھر حق ہی نظر آیا مجھے منظرؔ
وہ ہر منظر میں منظرؔ جلوہ فرماتا ہوا آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.