جہاں میں رویت ماہ عرب جس دن ہوئی ہوگی
جہاں میں رویت ماہ عرب جس دن ہوئی ہوگی
زمیں سے عرش تک ایک نور کی چادر بچھی ہوگی
خدائے دوجہاں جس پر ہوا شیدا وہی جانے
وہ کیا انداز ہوگا کیا ادائے دلبری ہوگی
تمہارے حسنِ یکتا کی نہ منزل ہے نہ حد کوئی
جہاں تک تیرگی ہوگی وہاں تک روشنی ہوگی
تمنا ہے تو اس کی ہے مقدر ہے تو اس کا ہے
نظر جس کی تمہارے نقشِ پا کو چومتی ہوگی
چلے آتے ہیں پروانے وہیں شمع رسالت کے
جہاں تقریبِ جشنِ عیدِ میلادالنبی ہوگی
خدا خود میزباں ٹھہرا حبیب پاک کا اپنے
تو پھر قدرت نے اس کی مہیمانی کیا نہ کی ہوگی
خدا اس کا ہے اور ساری خدائی بھی اسی کی ہے
محمد ہوگئے جس کے پھر اس کو کیا کمی ہوگی
خود اپنی شکل ناظر کو نظر آتی نہیں منظرؔ
نظر پھر کیا جمالِ مصطفیٰ کو دیکھتی ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.